ہم کب تک یہ جھوٹی تسلی دیتے رہیں گے کہ جس حکومت کو اقتدار میں لانے میں ہم نے مدد کی، وہی آج ہمارا سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ نہیں ہے؟ ڈیورنڈ لائن کی فضائیں اب خاموش نہیں رہیں۔ ہاتھ ملانے کا وقت گزر چکا؛ اب صرف ڈرونز کی گونج ہے۔ جون کے اختتام اور جولائی 2026 کے اوائل میں سرحد پار سے ہونے والے ڈرون حملوں نے کشیدگی کو نئی انتہا پر پہنچا دیا ہے۔
یہ اسلام آباد کے دفاعی حلقوں کے لیے ایک تلخ جھٹکا ہے۔ برسوں ہمیں یہی باور کرایا گیا کہ طالبان کا افغانستان ایک قدرتی بفر کا کام کرے گا اور تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے سرحد پار حملوں کا خاتمہ ہوگا۔ لیکن نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔
وہ بفر چاہتے تھے۔ وہ امن چاہتے تھے۔ انہیں ایک نئی پراکسی جنگ ملی۔
کابل آج کھل کر انہی عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے جو ہماری فورسز کا خون بہا رہے ہیں، جس نے ڈیورنڈ لائن کو مسلسل جنگی زون میں تبدیل کر دیا ہے۔
افغان طالبان کی یہ پیش قدمی اب محض ایک مقامی سرحدی جھڑپ نہیں، بلکہ پاکستان کی خود مختاری کو کھلم کھلا چیلنج ہے۔ کابل کی وزارتِ دفاع اب سرعام پاکستانی فضائی حدود کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہی ہے اور ہمارے انسدادِ دہشت گردی کے ڈرون حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے۔
منافقت کی انتہا دیکھیں۔ برسوں تک یہی طالبان ہماری سرزمین پر پناہ لے کر زندہ رہے؛ اور آج وہی خودمختاری کی آڑ میں ٹی ٹی پی کی قیادت کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے سفارت کار اسلام آباد سے کھوکھلے بیانات جاری کرتے ہیں جبکہ سرحدی بستیاں مارٹر گولوں اور ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔ «اچھے اور برے طالبان» کا فرسودہ نظریہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔
«ہم نے جس اژدہے کو اپنے صحن میں دودھ پلایا تھا، بالآخر اسی نے اسی ہاتھ کو ڈس لیا جس نے اسے خوراک دی تھی۔»
یہ محض ایک تاکتیکی ناکامی نہیں بلکہ خطے کا ایک سنگین اسٹرکچرل بحران ہے۔ بیجنگ اور ماسکو اس کشیدگی کو گہری تشویش سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان مکمل تصادم وسطی ایشیا میں بین الاقوامی انتہا پسند نیٹ ورکس کے لیے راستے کھول دے گا۔ دوسری طرف، ہم پیچھے ہٹنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہماری فورسز پہلے ہی بلوچستان میں شورش اور مشرقی سرحد پر بیک وقت دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔
ہمارے پالیسی سازوں کو شاید بہت دیر سے احساس ہوا ہے کہ جس شدت پسند نظریے کی انہوں نے کابل میں آبیاری کی تھی، اسے سفارتی معاہدوں یا معاشی مراعات سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔
وزیرستان اور کنڑ کی سنگلاخ چوٹیوں پر جب تک ڈرونز کا دھواں اٹھتا رہے گا، افغانستان پر ہمارے روایتی اثر و رسوخ کی راکھ اڑتی رہے گی۔ ہم سرحدیں بند کر سکتے ہیں اور ٹرانزٹ ٹریڈ روک سکتے ہیں، لیکن معاشی دباؤ اس حکومت پر بے اثر ہے جو معاشی بقا پر نظریاتی ہٹ دھرمی کو ترجیح دیتی ہے۔
اگر افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملے جاری رہے تو ایک مکمل سرحدی جنگ کو ٹالنا ناممکن ہو جائے گا۔ ڈیورنڈ لائن پر ایک طویل اور پرتشدد موسم کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں یہ فیصلہ کن سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم پچاس سالہ غلط خارجہ پالیسی کے نتائج بھگتنے کے لیے واقعی تیار ہیں؟